لاہور (رم نیوز)لاہور کی سیشن کورٹ نے معروف یوٹیوبر 'ڈکی بھائی' کی اہلیہ عروب جتوئی کے خلاف درج مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ان کے موبائل فون کا فرانزک تجزیہ کروانے کی اجازت دے دی ہے۔ سماعت کی تفصیلات ایڈیشنل سیشن جج منصور علی قریشی نے جوئے کی ایپلی کیشن کی مبینہ پروموشن کے حوالے سے دائر مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمہ کے موبائل فون کا فرانزک کروانا ضروری ہے، جس کے لیے عدالت مہلت فراہم کرے۔
عدالت نے تفتیشی افسر کی اس استدعا کو منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو کارروائی آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ وکلاء کے دلائل اور عدالتی ریمارکس دفاعی موقف: ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ موبائل فرانزک کی رپورٹ آنے میں وقت لگتا ہے، لہٰذا سماعت کو رمضان المبارک کے بعد تک ملتوی کیا جائے۔ عدالتی حکم: عدالت نے عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں 24 مارچ تک توسیع کر دی۔ تاہم، جج منصور علی قریشی نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ آئندہ سماعت پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں، اب مزید حاضری سے استثنیٰ (حاضری معافی) نہیں ملے گا۔
واضح رہے کہ عروب جتوئی پر آن لائن جوئے کی ایپلی کیشنز کی تشہیر کا الزام ہے، جس کی تحقیقات این سی سی آئی اے (NCCIA) کر رہی ہے۔ اس کیس میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا تھا جب ڈکی بھائی کی تفتیش کرنے والے بعض افسران پر ہی 90 لاکھ روپے رشوت لینے کے الزامات سامنے آئے، جس کی الگ سے انکوائری کی جا رہی ہے۔