کوئٹہ (رم نیوز) وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور صوبائی حکومت کے مابین طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد میں تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے کے قدرتی وسائل پر پہلا حق وہاں کے مقامی مکینوں کا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پی پی ایل انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ سوئی سے نکلنے والی گیس سے پورا ملک مستفید ہو رہا ہے لیکن سوئی ٹاؤن کے باسی آج بھی اس نعمت سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا آج کے دور میں بھی سوئی کی خواتین کا روٹی پکانے کے لیے لکڑیوں پر انحصار کرنا تشویشناک ہے۔ انہوں نے دو ٹوک مؤقف اپنایا کہ جب تک سابقہ معاہدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا، پی پی ایل کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔
جلاس کے دوران سرفراز بگٹی نے درج ذیل امور پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ،ویل چوکیدار اور دیگر تکنیکی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی میں حیل و حجت کو مسترد کر دیا۔ خالی آسامیوں پر فوری بھرتیوں کی ہدایت جاری کی گئی۔ مقامی طلبہ کے سکالرشپس میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا۔ پی پی ایل حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ گیس فراہمی کے منصوبے کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور تمام زیر التواء عوامی مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا۔