بنگلہ دیش میں تاریخ ساز الیکشن: طارق رحمان اور شفیق الرحمان میں کڑا مقابلہ، 'کنگ میکر' نوجوانوں کا ووٹ فیصلہ کن

ڈھاکہ(رم نیوز) بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلے عام انتخابات کا میلہ سج گیا۔ ملک بھر میں 300 پارلیمانی نشستوں اور آئینی اصلاحات کے لیے ریفرنڈم پر پولنگ کا عمل جاری ہے۔ 12 کروڑ 77 لاکھ سے زائد ووٹرز نئی قیادت کا انتخاب کر رہے ہیں، جبکہ عوامی لیگ کی غیر موجودگی میں مقابلہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کے درمیان سمٹ آیا ہے۔

سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں، جبکہ ڈاکٹر شفیق الرحمان جماعت اسلامی اور 11 جماعتوں پر مشتمل وسیع تر اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں۔ حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق بی این پی کو 44.1 فیصد اور جماعت اسلامی اتحاد کو 43.9 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے، جس سے ایک انتہائی کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اگست 2024 کے انقلاب میں کلیدی کردار ادا کرنے والی 'جنریشن زی' (Gen Z) ان انتخابات میں کنگ میکر قرار دی جا رہی ہے۔

نوجوانوں کی نمائندہ جماعت 'نیشنل سٹیزن پارٹی' نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کر رکھا ہے، جو انتخابی نتائج کا پانسہ پلٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ووٹرز کی تعداد: کل 12 کروڑ 77 لاکھ ووٹرز میں 6 کروڑ 48 لاکھ مرد اور 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین شامل ہیں۔سکیورٹی: ملک بھر میں 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار بشمول فوج تعینات ہے۔ 42,779 پولنگ اسٹیشنز میں سے 21,506 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔حالیہ قانون سازی پر ریفرنڈم: انتخابات کے ساتھ ساتھ عوام سے حالیہ آئینی ترامیم پر بھی رائے لی جا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ پر پابندی کے باعث ان کا روایتی ووٹ بینک جس طرف جھکا، وہی جماعت 151 نشستوں کا جادوئی ہندسہ عبور کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔ پولنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر ساڑھے تین بجے تک جاری رہے گا، جس کے بعد غیر سرکاری نتائج کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگا۔