بنگلہ دیش کا ’ڈیجیٹل الیکشن‘: ڈرونز کی نگرانی، باڈی کیمروں کا پہرہ اور 3 کروڑ نوجوانوں کا ’فیصلہ کن‘ ووٹ

ڈھاکہ (رم نیوز) بنگلہ دیش میں آج ہونے والے عام انتخابات روایتی سیاست سے ہٹ کر ایک جدید ترین تجربہ بن چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف بیلٹ پیپرز پر مہریں لگ رہی ہیں، وہی دوسری طرف فضا میں اڑتے ڈرونز اور سکیورٹی اہلکاروں کے سینوں پر لگے باڈی کیمرے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ جنوبی ایشیا کا پہلا ’ہائی ٹیک‘ الیکشن ہے۔

اس الیکشن کی سب سے منفرد بات 3 کروڑ سے زائد نوجوان ووٹرز ہیں، جو پہلی بار کسی بڑے سیاسی معرکے میں ’کنگ میکر‘ کی حیثیت سے ابھرے ہیں۔ 2024 کی احتجاجی تحریک سے جنم لینے والی یہ نسل کسی روایتی سیاسی وابستگی کے بجائے ’نئے بنگلہ دیش‘ کے بیانیے پر ووٹ ڈال رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسی جوش و خروش کی بدولت ٹرن آؤٹ 55 فیصد تک جانے کی توقع ہے، جو بنگلہ دیشی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔الیکشن کمیشن نے شفافیت کا ایسا نظام وضع کیا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ڈرونز کے ذریعے پولنگ اسٹیشنز کے اطراف کی لائیو فیڈ براہِ راست کنٹرول روم کو بھیجی جا رہی ہے۔

باڈی کیمروں کے استعمال سے انتخابی عملے اور ووٹرز کے درمیان ہونے والی گفتگو اور عمل کو ریکارڈ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی بدانتظامی یا دھاندلی کی شکایت کا فوری ازالہ ہو سکے۔چیف الیکشن کمشنر ناصر الدین نے اپنے بیان میں الیکشن کو ایک ’جنگ‘ کے بجائے ایک ’جمہوری تہوار‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا اختلافِ رائے دشمنی نہیں، جمہوریت کا حسن ہے۔ ہار جیت کو معمول کا حصہ سمجھ کر نتائج تسلیم کرنا ہی قوم کی اصل جیت ہوگی۔

غیر ملکی مبصرین کی بڑی تعداد میں موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کی نظریں اس وقت ڈھاکہ پر جمی ہیں۔ یہ انتخابات اس بات کا امتحان ہیں کہ آیا بنگلہ دیش کا نیا جمہوری ماڈل شفافیت کے عالمی معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔