لاہور(رم نیوز)پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں، لواحقین اور طبی عملے کے تحفظ کے لیے انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے ہسپتالوں کو سیف سٹی سرویلنس سسٹم سے منسلک کرنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اب ہسپتالوں کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کی براہ راست نگرانی سیف سٹی کے جدید کنٹرول رومز سے کی جائے گی۔
پہلے مرحلے میں صوبائی دارالحکومت کے اہم طبی مراکز بشمول گنگا رام، جنرل ہسپتال، لیڈی ایچی سن، میاں منشی اور نواز شریف ہسپتال کو سسٹم سے جوڑ دیا گیا ہے۔ لاہور کے علاوہ فیصل آباد، بہاولپور، راولپنڈی اور گوجرانوالہ کے 35 سے زائد ہسپتالوں کو بھی اس اسمارٹ نیٹ ورک کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔سیف سٹی حکام کے مطابق جدید کیمروں کے ذریعے ہسپتالوں کے درج ذیل شعبہ جات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی وارڈز اور ان ڈور شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ مشکوک افراد کی شناخت کے لیے مین گیٹس پر ہائی ڈیفینیشن کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں سسٹم خودکار طریقے سے قریب ترین پولیس موبائل کو الرٹ کرے گا۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ، عملے پر تشدد اور چوری جیسے واقعات کا سدباب کرنا ہے۔ حکومت پنجاب کا ہدف ہے کہ جلد ہی صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو اس 'سمارٹ سیف سٹی' سسٹم کا حصہ بنا دیا جائے تاکہ صحت کے مراکز کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔