ڈھاکہ(رم نیوز)بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات اور آئینی اصلاحات کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے دوران خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ سٹیشنز پر امڈ آئی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں بالخصوص ڈھاکہ، چٹاگانگ اور نوگاؤں (Naogaon) سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، صبح سویرے سے ہی خواتین کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جو ملکی مستقبل کے فیصلے کے لیے پرعزم نظر آتی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار رجسٹرڈ ووٹرز میں خواتین کی تعداد 6 کروڑ 28 لاکھ سے زائد ہے، جو کہ مجموعی ووٹ بینک کا تقریباً 49 فیصد بنتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے ووٹ اس بار فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق کئی علاقوں میں مردوں کے مقابلے خواتین کے پولنگ بوتھس پر زیادہ رش دیکھا گیا ہے۔قطاروں میں کھڑی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں امن و امان، مہنگائی کے خاتمے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ووٹ ڈالنے آئی ہیں۔
خواتین ووٹرز کی سہولت اور حفاظت کے لیے پولنگ سٹیشنز پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور تقریباً 10 لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر تک مجموعی ٹرن آؤٹ 32.88 فیصد رہا ہے، اور توقع ہے کہ شام تک یہ شرح 55 فیصد تک پہنچ جائے گی، جس میں خواتین کا بڑا حصہ شامل ہوگا۔