کراچی(ر م نیوز)سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ملک میں موجود سونے کے ذخائر کی مالیت اور مقدار سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے اضافے کے باعث ملکی اثاثوں کی قدر میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، پاکستان کے پاس اس وقت کل 64.76 ٹن سونا موجود ہے۔ اس کی پیمائش اور مالیت کچھ یوں ہے ۔
مجموعی مالیت: ان ذخائر کی کل عالمی مالیت 10.374 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ وزن (تولہ): ملک میں موجود سونے کی کل مقدار 55 لاکھ 52 ہزار تولے ہے۔
وزن (اونس): عالمی پیمانے کے مطابق یہ 20 لاکھ 82 ہزار اونس بنتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سونے کے ذخائر کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
رواں مالی سال کے ابتدائی 7 مہینوں میں سونے کے ذخائر کی مالیت میں 3.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ صرف جنوری 2026 کے ایک ماہ کے دوران ان ذخائر کی قدر میں 1.279 ارب ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا۔
جون 2025 میں ان ذخائر کی کل مالیت 6.84 ارب ڈالر تھی، جو اب بڑھ کر 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کے ذخائر کی مالیت میں یہ اضافہ براہ راست خریداری کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا نتیجہ ہے۔ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر کو "بک ویلیو" (Book Value) کے لحاظ سے استحکام فراہم کر رہی ہیں۔حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے باعث سرمایہ کاروں نے ڈالر کے بجائے سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھا، جس کا فائدہ پاکستان جیسے ممالک کو بھی ہوا۔