اسلام آباد(رم نیوز)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی اور اہل خانہ کی موجودگی میں ہونا ان کا بنیادی آئینی حق ہے۔ پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود علاج کی راہ میں حائل رکاوٹیں کئی سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کوئی عام قیدی نہیں بلکہ سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر میڈیکل رپورٹس درست ہیں تو پھر ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی کو ملنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ اس عمل سے عوامی حلقوں میں شکوک و شبہات مزید بڑھ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کارکنان کئی دنوں سے اپنی مدد آپ کے تحت پُرامن احتجاج کر رہے ہیں اور ایک گملا تک نہ ٹوٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی ایک منظم سیاسی جماعت ہے، کوئی ہجوم نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ احتجاج کی آفیشل کال دینے کا اختیار صرف بانی پی ٹی آئی کی نامزد کردہ قیادت کے پاس ہے، اور اگر ایسی کوئی کال دی گئی تو پھر عوامی سمندر کو کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پُرامن دھرنا جاری ہے اور جماعت اپنے قائد کی صحت اور حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرے گی۔