لاہور (رم نیوز) سال 2026 کے مقدس مہینے کا آغاز دنیا کے مختلف حصوں میں متوقع طور پر 18 یا 19 فروری سے ہو رہا ہے۔ جغرافیائی فرق کی وجہ سے اس سال بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے روزوں کے دورانیے میں نمایاں فرق دیکھا جائے گا، جس کی بنیادی وجہ زمین کے شمالی اور جنوبی حصوں میں موسموں کاتغیر وتبدل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت زمین کے شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے، اس لیے وہاں روزے مختصر ہوں گے۔ اس کے برعکس جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہونے کی وجہ سے دن طویل اور روزے کی مدت زیادہ ہوگی۔ ناروے کے شمالی علاقے لانگ یئربین میں رمضان کے آغاز پر روزہ محض ڈھائی گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت کا ہوگا۔چلی کے جنوبی شہر پورٹو ولیمز میں روزے کا دورانیہ تقریباً ساڑھے 14 گھنٹے تک طویل ہوگا۔
مسلم اکثریتی علاقوں میں اس سال رمضان حالیہ برسوں کے مقابلے میں کافی معتدل اور خوشگوار ثابت ہوگا۔ مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ میں روزہ تقریباً ساڑھے 11 گھنٹے دورانیے کا ہوگا، جس میں مہینے کے اختتام تک آدھے گھنٹے کا اضافہ ہو جائے گا۔پاکستان میں روزے کا آغاز 12 گھنٹے سے کچھ زائد وقت سے ہوگا، تاہم مہینے کے اختتام تک دورانیہ 40 منٹ تک بڑھ جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شمالی نصف کرہ (بشمول پاکستان) میں روزے کا دورانیہ 2031 تک ہر سال کم ہوتا رہے گا کیونکہ تب رمضان دسمبر کے مختصر ترین دنوں میں آئے گا۔ اس کے برعکس، جنوبی علاقوں میں 2031 تک روزے ہر سال طویل سے طویل تر ہوتے جائیں گے۔