کیا ایپسٹین کی فائلیں عالمی اشرافیہ کے لیے خطرہ بن گئیں؟ اقوام متحدہ کے ماہرین کی مداخلت

جنیوا/نیویارک(رم نیوز) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلوں اور ای میلز میں موجود ہولناک انکشافات کو 'انسانیت کے خلاف جرائم' کے زمرے میں آنے والے ممکنہ اقدامات قرار دیتے ہوئے اس کیس کی فوری اور آزادانہ عالمی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لاکھوں صفحات پر مشتمل فائلوں سے ایک ایسے عالمی مجرمانہ نیٹ ورک کا سراغ ملتا ہے جس نے بڑے پیمانے پر انسانی سمگلنگ اور جنسی استحصال کیا۔

ماہرین کے مطابق خواتین اور کمسن لڑکیوں کے ساتھ منظم زیادتی، تشدد، اور غلامی جیسے اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت 'انسانیت کے خلاف جرائم' کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے حال ہی میں 30 لاکھ سے زائد صفحات پر مبنی فائلز، ہزاروں ویڈیوز اور تصاویر جاری کی گئی ہیں۔

ان دستاویزات میں کمسن بچوں سے زیادتی کے منظم نیٹ ورک کے ثبوت موجود ہیں۔عالمی سطح پر بااثر شخصیات، سیاستدانوں اور بزنس ٹائیکونز کے نام سامنے آنے کا خدشہ ہے۔فائلوں میں انسانی سمگلنگ کے ذریعے متاثرین کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ جیفری ایپسٹین کو جنسی جرائم اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، تاہم وہ اگست 2019 میں نیویارک کی ایک جیل میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، لیکن ان کی فائلوں کے پبلک ہونے سے اب یہ معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔