اسلام آباد/واشنگٹن(رم نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'غزہ امن منصوبے' کے تحت مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کا معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی دعوؤں کے باوجود اسلام آباد نے اس حساس معاملے پر تاحال مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے اس فورس کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے اور امریکہ اس اہم کردار کا خیرمقدم کرتا ہے۔
تاہم، پاکستان کی جانب سے اس بیان کی نہ تو تصدیق کی گئی اور نہ ہی اب تک کوئی باقاعدہ تردید سامنے آئی ہے۔ واضح رہے کہ انڈونیشیا اب تک واحد اسلامی ملک ہے جس نے اس فورس کے لیے اپنے دستے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ خواجہ محمد آصف کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز کا وسیع تجربہ رکھتا ہے اور غزہ میں قیامِ امن کے لیے دستے بھیجنے میں کوئی اصولی مسئلہ نہیں، لیکن اس کا حتمی فیصلہ 'ٹرمز آف ریفرنس' (TORs) کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
سیاسی رہنماؤں اور سابق سفارتکاروں نے زور دیا ہے کہ ایسے دور رس نتائج کے حامل فیصلے کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت تک فورس کا حصہ نہیں بننا چاہیے جب تک اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس مشن کی مکمل ضمانت نہ دے۔اسرائیل کی جانب سے حملوں کے مکمل خاتمے اور مستقل جنگ بندی کی یقین دہانی نہ ہو۔