"گل پلازہ آتشزدگی: 1200 ڈگری تپش اور ریسکیو اداروں کی بے بسی، جوڈیشل کمیشن کے تیکھے سوالات"

کراچی(رم نیوز) کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے حوالے سے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں ریسکیو اداروں کی سنگین غفلت اور عمارت میں حفاظتی انتظامات کے فقدان کے ہولناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور بلڈنگ انتظامیہ کو کڑے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ دورانِ سماعت ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے اعتراف کیا کہ آگ کی شدت 'تھرڈ ڈگری' تھی جہاں درجہ حرارت 800 ڈگری سے زائد ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عمارت میں نصب 'فالس سیلنگ' نے آگ پکڑنے کے بعد شدید زہریلا دھواں پیدا کیا، جس نے لوگوں کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے انکشاف کیا کہ موقع پر درجہ حرارت 1200 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، جس کی وجہ سے پانی بھی فوری طور پر بھاپ بن کر اڑ رہا تھا۔ جسٹس آغا فیصل نے ریسکیو حکام کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے "جب دھواں ہلاکتوں کی بڑی وجہ بن رہا تھا، تو کیا دیوار توڑ کر اسے باہر نکالنے کا کوئی انتظام ممکن نہیں تھا؟"۔عدالت کو بتایا گیا کہ بجلی کی بندش اور ایمرجنسی لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے گراؤنڈ فلور پر موجود افراد کو باہر نکلنے کا راستہ ہی نہیں مل سکا، جبکہ دوسری منزل کی سیڑھیاں بھی بند تھیں۔

چیف فائر آفیسر نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ شہر میں ٹریفک کی بدتر صورتحال کی وجہ سے فائر ٹینڈرز کو پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔فائر سٹیشنز میں پانی کے ٹینک موجود نہیں، واٹر کارپوریشن کی لائن براہ راست نہ ہونا ایک مستقل مسئلہ ہے۔ریسکیو کے دوران لوہے کی گرلیں اور کھڑکیاں کاٹ کر لاشیں نکالی گئیں۔ گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ آگ لگنے کے فوری بعد کے الیکٹرک سے رابطہ کر کے بجلی بند کروائی گئی تھی۔ کمیشن نے تمام فریقین کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ریسکیو اداروں کو تحریری سوال نامہ جاری کر دیا ہے اور سماعت مزید کارروائی کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔