قومی کھیل کا المیہ: ہاکی فیڈریشن کے صدر مستعفی، کپتان پر پابندی اور کھلاڑیوں کی تذلیل پر تحقیقات کا حکم

لاہور (رم نیوز) آسٹریلیا کے دورے پر پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ پیش آنے والے بدانتظامی کے شرمناک واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی نے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ پر دو سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ آسٹریلیا میں پرو ہاکی لیگ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جن میں کھلاڑیوں کو سڑکوں پر بیٹھے، کچن کی صفائی کرتے اور برتن دھوتے دیکھا گیا۔ وطن واپسی پر کپتان عماد بٹ نے میڈیا کے سامنے پھٹ پڑتے ہوئے کہاقومی کھلاڑیوں سے آسٹریلیا میں باتھ روم صاف کروائے گئے اور ہم 14 گھنٹے سڑکوں پر لاوارث رہے۔

ٹیم مینجمنٹ نے فنڈز کے حوالے سے کھلاڑیوں سے جھوٹ بولا اور گروپ بندی کی کوشش کی۔ان حالات کے بعد کھلاڑی میدان میں کیا پرفارم کریں گے؟۔ ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی نے استعفیٰ دیتے ہوئے سارا ملبہ پاکستان سپورٹس بورڈ پر ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت فنڈز نہ ملنے سے کھلاڑیوں کو مشکلات ہوئیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کپتان عماد بٹ پر بین الاقوامی اور ڈومیسٹک ہاکی کھیلنے پر 2 سال کی پابندی لگا دی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ فیڈریشن کو ہوٹل کے لیے ایک کروڑ 15 لاکھ روپے جاری کیے گئے تھے، اس لیے تمام تر ذمہ داری فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری جانب چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے ہاکی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور واضح کیا کہ وہ ہاکی فیڈریشن کے صدر نہیں بن رہے، البتہ وہ کھلاڑیوں کی ہر ممکن مدد کریں گے۔