کیا سیون سسٹرز بھارت کی کمزور کڑی ہیں؟ بنگلہ دیش کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور سٹریٹجک اہمیت

ڈھاکہ/نئی دہلی(رم نیوز) بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے بیانات نے بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں، جنہیں 'سیون سسٹرز' کہا جاتا ہے، کی جغرافیائی اور سٹریٹجک اہمیت کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔بھارت کی سات ریاستیں (آسام، اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور، میزورام، تریپورہ اور میگھالیہ) جغرافیائی طور پر 'لینڈ لاکڈ' ہیں، یعنی ان کا سمندر سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے۔ ان ریاستوں کا باقی بھارت سے رابطہ صرف 22 کلومیٹر چوڑی ایک تنگ زمینی پٹی کے ذریعے ہے جسے 'شِلی گُری راہداری' یا 'چکن نیک' کہا جاتا ہے۔

اس راہداری کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش کی سرحدوں کے قریب ہے، جبکہ چین بھی یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ محمد یونس نے ان ریاستوں کو 'لینڈ لاکڈ' قرار دیتے ہوئے بنگلہ دیش کو ان کے لیے سمندر تک رسائی کا واحد راستہ بتایا، جس پر بھارتی قیادت نے شدید اعتراض کیا ہے۔ آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے مطابق، ایسے بیانات ایک گہری اسٹریٹجک سوچ اور طویل المدتی ایجنڈے کی عکاسی کرتے ہیں جو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جہاں بھارت کو اپنی سات ریاستوں تک رسائی کے لیے بنگلہ دیش کی ضرورت ہے، وہی بنگلہ دیش خود جغرافیائی طور پر بھارت کے حصار میں ہے۔بنگلہ دیش کی 94 فیصد بین الاقوامی سرحد بھارت سے ملتی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان 4,367 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف تجارت تک محدود نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے سابق فوجی افسران اور بعض طلبہ رہنماؤں کی جانب سے سیون سسٹرز کو بھارت سے الگ کرنے یا ان پر قبضے کے لیے چین کے ساتھ تعاون کرنے جیسے اشتعال انگیز بیانات نے نئی دہلی میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ خاص طور پر اروناچل پردیش کا معاملہ، جس پر چین 'جنوبی تبت' کے نام سے دعویٰ کرتا ہے، اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ ماضی میں بنگلہ دیش کی تمام سیاسی جماعتیں بھارت کو اپنی سرزمین سے راستہ دینے پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ اگرچہ اس سے بنگلہ دیش کو معاشی فائدہ اور چٹاگانگ بندرگاہ کے ذریعے آمدن ہو سکتی ہے، لیکن بنگلہ دیشی عوام اور سیاست دان اسے اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ تصور کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات ایک نازک موڑ پر ہیں۔ سیون سسٹرز کی معیشت کا انحصار جہاں بنگلہ دیش سے ملنے والے راستے پر ہے، وہیں بنگلہ دیش کی سلامتی اور تجارت کا بڑا حصہ بھارت سے جڑا ہوا ہے۔