مشرق وسطیٰ جنگ کے دہانے پر: نیتن یاہو کی تہران کو ’ناقابل تصور‘ جواب کی دھمکی

تل ابیب (رم نیوز) مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے اسرائیل پر حملے کی غلطی کی تو اسے ایسا "ناقابل تصور" جواب دیا جائے گا جس کا علی خامنہ ای نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔

اسرائیلی انٹیلی جنس اور عسکری ذرائع کے مطابق صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی اندازے جو پہلے ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کو ہفتوں کی دوری پر دیکھ رہے تھے، اب اسے محض چند دنوں کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔اسرائیل نے الرٹ کی سطح انتہائی بلند کر دی ہے اور عسکری تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد خطے میں فوجی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج کے درمیان ایک مربوط حملے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ممکنہ حملہ ماضی کی جون میں ہونے والی "12 روزہ جنگ" سے کہیں زیادہ تباہ کن اور وسیع ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی کے اشاروں کے بعد نیتن یاہو نے حساس سکیورٹی اجلاسوں میں اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ اموس یادلن نے انتہائی تشویشناک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت حملے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں ہوائی سفر کرنے والے افراد اپنی سفر سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی دفاعی کمیٹی نے بند کمرہ اجلاس میں ہوم فرنٹ کمانڈ کے سربراہ سے ملاقات کی ہے، جس میں عوام کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔