سرکاری رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ، پاکستان میں ہر تیسرا شخص غریب، بلوچستان میں شرح 47 فیصد تک جا پہنچی

اسلام آباد (رم نیوز) حکومتِ پاکستان نے ملک میں غربت کے حوالے سے سات سالہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے اعداد و شمار نے ملکی معیشت کی ابتر صورتحال کا پول کھول دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سات سالوں میں پاکستان میں غربت کی شرح میں 7.6 فیصد کا ہوش ربا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مزید 1 کروڑ 75 لاکھ افراد غریبوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی کل 25 کروڑ آبادی میں سے اب 28.9 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دیہی علاقوں میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے جہاں غربت کی شرح 36.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 17.4 فیصد رہی۔

وفاقی دارالحکومت سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبوں کی صورتحال درج ذیل ہے۔

بلوچستان: 47 فیصد (ملک کا سب سے غریب ترین صوبہ)،خیبر پختونخوا: 35.3 فیصد،سندھ: 32.6 فیصد،پنجاب: 23.3 فیصد ۔

حکومتی رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان فرق یعنی معاشی عدم مساوات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 32.7 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونا، عالمی وبا (کرونا) اور آئی ایم ایف کے سخت پروگراموں نے غریب طبقے کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روپے کی قدر میں کمی اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو کچل کر رکھ دیا ہے۔