ایران پر حملے کی تیاری یا آئینی جنگ؟ امریکی صدر کے اختیارات محدود کرنے کے لیے کانگریس میں صف بندی

واشنگٹن (رم نیوز) امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران وائٹ ہاؤس اور کیپیٹل ہل (امریکی پارلیمنٹ) کے درمیان اختیارات کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ امریکی کانگریس میں آئندہ ہفتے ایک ایسی قرارداد پر ووٹنگ کا امکان ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قانون سازوں کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے روک دے گی۔ اس سیاسی محاذ آرائی کی خاص بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت، ریپبلکن پارٹی کے بعض اراکین نے بھی اپوزیشن (ڈیموکریٹس) کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے

سینیٹ میں ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین اور ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے مشترکہ طور پر قرارداد پیش کی ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے باقاعدہ 'اعلانِ جنگ' کی منظوری لی جائے۔ 'رائٹرز' کے مطابق، امریکی فوج ایران پر ممکنہ حملے کے لیے ہفتوں پر محیط آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

دوسری جانب، ایوانِ نمائندگان کے رکن رو کھنہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کے مطابق ایران پر حملے کا 90 فیصد امکان ہے، تاہم ان کا موقف ہے کہ عوامی نمائندوں کی مرضی کے بغیر ملک کو کسی نئی جنگ میں نہیں دھکیلا جا سکتا۔ امریکی آئین کی رو سے جنگ کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، لیکن صدر 'قومی سلامتی' کے نام پر محدود کارروائی کر سکتے ہیں۔ ریپبلکن قیادت فی الحال صدر کے اختیارات محدود کرنے کی مخالف ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے دشمن کو شہ ملتی ہے۔