نئی دہلی(رم نیوز) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مصنوعی ذہانت (AI) کو انسانی قابو میں رکھنے کے لیے ایک بڑے عالمی اقدام کا اعلان کیا ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ مصنوعی ذہانت کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے اسے محض اندازوں پر چھوڑنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے اب "سائنسی گورننس" کا وقت آ گیا ہے۔
انتونیو گوتریس نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 40 ماہرین پر مشتمل ایک ایسی بین الاقوامی سائنسی ٹیم کی منظوری دی ہے جو بالکل اسی طرح کام کرے گی جیسے موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والا عالمی ادارہ (IPCC) کرتا ہے۔ اس ٹیم کا بنیادی مقصد اے آئی کو ایک ایسی تکنیکی حقیقت بنانا ہے جس کا ریموٹ کنٹرول انسان کے ہاتھ میں ہو۔ سیکرٹری جنرل نے اے آئی کے بارے میں پھیلی ہوئی مبالغہ آرائی اور خوف کو مسترد کرتے ہوئے کہا پیغام واضح ہے، خوف کو کم کریں اور حقائق کو بڑھائیں۔
ان کا ماننا ہے کہ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ یہ سسٹم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں، تو ہم زیادہ ہوشمندانہ کنٹرول نافذ کر سکیں گے۔یہ عالمی ٹیم جولائی 2026 میں اپنی پہلی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس مشاورتی ادارے کا مقصد حکومتوں کو درج ذیل خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی مدد فراہم کرنا ہے۔
ملازمتوں کا ضیاع: اے آئی کے باعث بیروزگاری کے خدشات کو کم کرنا۔
غلط معلومات: انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں کا تدارک۔
آن لائن بدسلوکی: ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانا۔
انتونیو گوتریس کا یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ عالمی برادری اب اے آئی کو صرف ایک "ٹیکنالوجی" نہیں بلکہ ایک ایسی "قوت" سمجھ رہی ہے جسے منظم کرنا عالمی امن کے لیے ضروری ہے۔