سٹاک مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ، 'مارکیٹ کرکشن' سرمایہ کاروں کے لیے خطرہ یا موقع؟، یہ کیا ہوتی ہے؟

کراچی (رم نیوز)پاکستان سٹاک ایکسچینج میں حالیہ 11 فیصد کی گراوٹ نے جہاں نئے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا ہے، وہیں تجربہ کار ماہرین اسے مارکیٹ کے بہتری کے عمل سے تعبیر کر رہے ہیں سٹاک مارکیٹ میں جب مسلسل تیزی آتی ہے تو شیئرز کی قیمتیں ان کی اصل مالیت (Intrinsic Value) سے کہیں اوپر نکل جاتی ہیں۔ جب انڈیکس 40 ہزار سے ایک لاکھ 90 ہزار تک پہنچا، تو کئی کمپنیوں کے حصص بہت مہنگے ہو چکے تھے۔

'کرکشن' ان قیمتوں کو دوبارہ معقول سطح پر لاتی ہے۔ جب مارکیٹ گرتی ہے تو کمزور سرمایہ کار خوف میں شیئرز بیچتے ہیں، جبکہ بڑے ادارے اور سمجھدار سرمایہ کار اسے 'ڈسکاؤنٹ' سمجھ کر خریداری کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر جب بھی جغرافیائی سیاسی حالات خراب ہوتے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کار 'ایمرجنگ مارکیٹس جیسے پاکستان سے پیسہ نکال کر محفوظ اثاثوں (جیسے سونا یا امریکی ڈالر) میں لگاتے ہیں۔

اگرچہ کمپنیاں منافع میں ہیں، لیکن سرمایہ کاروں نے اس سے بھی زیادہ منافع کی توقعات لگا رکھی تھیں۔ توقعات پوری نہ ہونے پر فروخت کا دباؤ بڑھا ہے۔ اگر سٹیٹ بینک شرح سود بڑھاتا ہے تو سرمایہ کار سٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکال کر بینک ڈیپازٹس یا بانڈز میں لگانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ وہاں خطرہ کم ہوتا ہے۔ حالیہ مندی نے ان شعبوں کو زیادہ متاثر کیا ہے جنہوں نے گزشتہ سال سب سے زیادہ منافع دیا تھا۔شرح سود میں تبدیلی کے خدشات نے بڑے بینکوں کے حصص پر دباؤ ڈالا۔تعمیراتی سرگرمیوں میں سست روی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات نے ان شعبوں کو متاثر کیا۔

اکثر معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک ملک کے بنیادی معاشی اشاریے (جیسے برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر) مستحکم ہیں، اس گراوٹ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں پیسہ وہ بناتا ہے جو دوسرے کے خوف کے وقت ہمت دکھائے اور دوسروں کے لالچ کے وقت محتاط رہے۔