ہزارہ ڈویژن کی تقدیر بدلنے کا مشن، وزیراعلیٰ کے پی کا 200 ارب روپے کے تاریخی ترقیاتی پیکج اور 'الائی' کو ضلع بنانے کا اعلان

اسلام آباد (رم نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ہزارہ ڈویژن کے لیے 200 ارب روپے کے ایک تاریخ ساز اور جامع ترقیاتی پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس بڑے مالیاتی پیکج کا مقصد خطے میں سیاحت کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانا اور بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے خصوصی ہدایت جاری کی ہے کہ اس پیکج میں سے 50 ارب روپے صرف سیاحت کے فروغ کے لیے مختص کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن کے قدرتی حسن اور سیاحتی مقامات میں چھپے ہوئے معاشی پوٹینشل سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ انتظامی امور کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے 'الائی' کو باقاعدہ ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اعلان کیا گیا۔

این ایچ اے کے زیر اہتمام جی ٹی روڈ کو دو رویہ کرنے کے لیے وفاق سے مطالبہ کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ نے اس منصوبے میں صوبائی حکومت کی جانب سے مالی شراکت کا بھی یقین دلایا۔ پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہزارہ ڈویژن کے پارلیمنٹیرینز نے شرکت کی۔ اجلاس کی اہم خصوصیات درج ذیل رہیں۔ ہر حلقے کی مقامی ضروریات کو سمجھنے کے لیے اراکینِ اسمبلی کے ساتھ علیحدہ نشستیں منعقد کی جائیں گی۔ فنڈز کے شفاف استعمال کے لیے تمام منصوبوں کی ابتدائی دستاویزات کو بجٹ سے پہلے حتمی شکل دی جائے گی۔

بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق پسماندہ اضلاع میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ آئندہ مالی سال کا ترقیاتی پروگرام ماضی سے مختلف اور نمایاں ہوگا، جس میں کاغذی کارروائی کے بجائے زمینی حقائق اور عوامی ثمرات کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے جاری منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے کی بھی سخت ہدایت کی۔