ایران کا ایٹمی سفر، زیر زمین نئی تعمیرات اور مغربی انٹیلی جنس کے بڑھتے ہوئے خدشات

تہران/نیویارک (ر م نیوز) ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا دور ہورہا ہے ۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی طرف سے لفظی گولہ باری جاری ہے اور امریکہ کی طرف سے دبائو بڑھانے کے لیے کچھ پابندیوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تازہ ترین تصاویر اور بین الاقوامی تھنک ٹینکس کی رپورٹس نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ ایران اپنی حساس جوہری تنصیبات کو زمین کی گہرائیوں میں منتقل کر کے انہیں "ناقابلِ تسخیر" بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کے معروف تھنک ٹینک آئی ایس آئی ایس (ISIS) کے مطابق، سیٹلائٹ تصاویر سے نطنز اور اصفہان کی تنصیبات میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔

نطنز کے جنوب میں واقع ماؤنٹ کولنگ گاز لا (جسے 'پک ایکس' ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے) کو غیر معمولی طور پر مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مقام امریکی یا اسرائیلی فضائی حملوں سے بچنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اصفہان میں سرنگوں کے داخلی راستوں کو مٹی سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور نئی چھتیں تعمیر کی گئی ہیں تاکہ بیرونی نگرانی سے بچا جا سکے۔ امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کی رپورٹ کے مطابق، ایران اب اس تکنیکی مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں وہ محض ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ہتھیاروں کے درجے کا افزودہ یورینیم تیار کر سکتا ہے۔تاہم ماہرین کے درمیان اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا ایران نے اسے باقاعدہ بم یا وارہیڈ کی شکل دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے یا نہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے ایٹمی بم کے مخصوص پرزے تیار کرنے میں ٹھوس پیش رفت کر لی ہے۔تاہم ایک طبقہ فکر کے مطابق 2015 کے معاہدے کی ناکامی کے بعد ایران ممکنہ طور پر دوبارہ وارہیڈ ڈیزائن پر کام شروع کر چکا ہے۔ ان تمام خدشات کے باوجود، عالمی ادارے IAEA کے سربراہ نے حال ہی میں ایک فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال ایجنسی کو "فعال جوہری ہتھیار" کی تیاری کے کوئی واضح شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید کا بھی اظہار کیا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور ان کے کیا نتائج نکلتے ہیں اس کاتوآنے والا وقت ہی بتائے گا۔