لاہور/راولپنڈی(رم نیوز) کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے فوری مداخلت کی اپیل کر دی ہے۔ رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ سے نہ ملوانے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور محمود الرشید نے اپنے وکیل کے ذریعے مشترکہ بیان جاری کیا۔
رہنماؤں نے یاد دہانی کرائی کہ 2019 میں جب سابق وزیراعظم نواز شریف علیل ہوئے تو ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو نہ صرف ہسپتال میں رسائی حاصل تھی بلکہ وہ میڈیکل بورڈ کے تمام اجلاسوں کا حصہ بھی رہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے کیس میں ایسی کسی سہولت کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بیان میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے بارے میں اہلِ خانہ کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے اور ان کے ذاتی ڈاکٹر یا قانونی مشیر کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی آنکھوں کی تکلیف (CRVO) کا شکار ہیں، جس کے لیے انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم پی ٹی آئی قیادت کا مطالبہ ہے کہ انہیں ان کے پسندیدہ نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت دی جائے۔ صرف اندرونی سیاست ہی نہیں، بلکہ اسیر رہنماؤں نے اپنے بیان میں مسئلہ فلسطین پر بھی بات کی اور حکومت کو تجویز دی کہ خطے میں امن اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے فوری طور پر کثیرالجماعتی کانفرنس (MPC) بلائی جائے۔