اسلام آباد(رم نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس حکام کسی بھی وقت اور بغیر پیشگی نوٹس کے کسی بھی جگہ چھاپہ مارنے کے مکمل مجاز ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری فیصلے میں واضح کیا گیا کہ چھاپہ مارنے کے لیے ٹیکس دہندہ کے خلاف پہلے سے کیس ہونا ضروری نہیں۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی اور ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس چوری روکنے کے لیے حکام کو وسیع اختیارات دیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق حکام کمپیوٹر، دستاویزات اور اکاؤنٹس قبضے میں لے سکتے ہیں، تاہم کمشنر کو کارروائی کا تحریری جواز فراہم کرنا ہوگا۔
بغیر نوٹس ٹیکس چھاپوں کی قانونی منظوری، وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ