اسلام آباد / راولپنڈی (رم نیوز)پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے شروع کیا گیا ’آپریشن غضب للحق‘ شدت اختیار کر گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز بھی جاری رہنے والی ان کارروائیوں میں افغان طالبان کی متعدد چیک پوسٹوں، بیسز اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرحد پار عسکری ڈھانچے کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ مہمند سیکٹر میں آریانہ کمپلیکس، دبگئی اور ذاکر خیل چیک پوسٹوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
زؤبا سیکٹر میں ڈیلٹا اور گالف پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا جبکہ چترال کے قریب کانڈکسی بیس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پاک فضائیہ نے صوبہ لغمان میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ننگرہار بریگیڈ اور اے بی ایف بٹالین ہیڈ کوارٹر پر بھی موثر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں سرحد پار سے دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر اس آپریشن کی تازہ ترین رپورٹ شیئر کی ہے، جس کے مطابق نقصانات کی تفصیل درج ذیل ہے ، اب تک 297 افغان طالبان ہلاک اور 450 زخمی ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر 89 افغان چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں، جبکہ 18 اہم پوسٹوں پر پاکستان نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ 135 ٹینک اور مسلح گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ اب تک افغانستان کے مختلف علاقوں میں 29 مقامات کو فضائی نشانہ بنایا گیا ہے۔