اصفہان میں اعلیٰ افزودہ یورینیم کی موجودگی کا انکشاف: عالمی ایٹمی ایجنسی کی تشویشناک رپورٹ

ویانا/تہران (رم نیوز) اقوامِ متحدہ سے منسلک بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے شہر اصفہان میں زیرِ زمین مقامات پر بم بنانے کے قریب ترین درجے کا 'اعلیٰ افزودہ یورینیم' موجود ہے۔ ایجنسی نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام ایٹمی مقامات کے معائنے کی اجازت دے۔ رائٹرز اور اے ایف پی کی جانب سے دیکھی گئی اس رپورٹ میں اصفہان کو نئی افزودگی کی تنصیب اور وہاں ذخیرہ شدہ مواد کی وجہ سے 'تشویش کا مرکز' قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پہلی بار تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جو کہ ایٹمی ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد کی سطح کے انتہائی قریب ہے۔ ایجنسی نے بتایا ہے کہ وہ تاحال ایران کی چار اہم افزودگی کی تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں کر سکی، جس کی وجہ سے یورینیم کی اصل مقدار اور مقام کے بارے میں قطعی معلومات موجود نہیں ہیں۔رپورٹ میں اصفہان نیوکلیئر کمپلیکس کی سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن میں سرنگوں کے داخلی راستوں کو مٹی سے ڈھکا ہوا دکھایا گیا ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق، جون میں اصفہان کی اس تنصیب پر امریکی اور اسرائیلی فوجی حملے ہوئے تھے، تاہم سائٹ کو پہنچنے والا نقصان بظاہر محدود معلوم ہوتا ہے

۔یہ رپورٹ آئی اے ای اے کے 35 رکنی بورڈ کے سہ ماہی اجلاس سے قبل اراکین کو بھیجی گئی ہے۔ 2 مارچ 2026 سے ویانا میں اہم تکنیکی مذاکرات شروع ہوں گے تاکہ ایران میں حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے ایران سے 'تعمیری تعاون' کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جوہری مواد کی تصدیق کا عمل بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہو سکے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو چکا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں نے ایک غیر معمولی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے حل کے لیے فوری رسائی ناگزیر ہے۔