مشرقِ وسطیٰ میں باقاعدہ جنگ کا آغاز: امریکہ و اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ، جواب میں 5 امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش

تہران/تل ابیب/واشنگٹن (رم نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے ہولناک جنگی صورتحال اختیار کر لی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے 30 سے زائد مقامات پر فضائی اور سمندری حملے کیے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے "آپریشن فتح خیبر" کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی و اسرائیلی فورسز نے تہران سمیت کئی شہروں میں ایرانی قیادت کے مراکز، پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹرز اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ایرانی شہر میناب میں ایک گرلز سکول پر بمباری سے طالبات سمیت 53 افراد جاں بحق ہو گئے۔آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر، صدارتی محل، بوشہر جوہری پاور پلانٹ اور وزارتِ انٹیلی جنس پر ٹوما ہاک میزائل داغے گئے۔ ایرانی سپریم لیڈر اور صدر محفوظ مقام پر منتقل کر دیے گئے ہیں، تاہم پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینئر کمانڈروں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ ایران نے چند ہی گھنٹوں میں بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے کو لرزا دیا۔ اسرائیل پر 75 بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے گئے، جس سے تل ابیب، حیفہ اور مقبوضہ بیت المقدس دھماکوں سے گونج اٹھے۔ پورے اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں اور عوام بنکرز میں منتقل ہو گئے ہیں۔ ایران نے خلیج میں موجود 5 بڑے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا،قطر: العدید ایئر بیس۔متحدہ عرب امارات: الظفرہ ایئر بیس،کویت: السالمیہ بیس،بحرین: امریکی پانچویں بحری بیڑے کا سروس سینٹر،اردن: کنگ حسین ایئر بیس۔

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یہ آپریشن ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنے کے لیے ہے اور یہ کئی روز تک جاری رہ سکتا ہے۔ روس نے امریکی مذاکرات کو "ڈھونگ" قرار دیا ہے جبکہ برطانیہ نے حملے میں اپنی شمولیت کی تردید کی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے صورتحال کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں،شہریوں کو ایران کے سفر سے مکمل گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔ پی آئی اے (PIA) نے خلیجی ممالک (یو اے ای، بحرین، قطر، کویت) کے لیے اپنا فضائی آپریشن معطل کر دیا ہے۔سعودی عرب کے لیے پروازوں کے روٹ تبدیل کر دیے گئے ہیں تاکہ جنگی زون سے بچا جا سکے۔ ایران میں انٹرنیٹ اور فون سروس معطل ہے، اسٹاک مارکیٹ کریش کر چکی ہے اور شہری تیزی سے تہران خالی کر رہے ہیں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے نہ رکے تو خطے کا کوئی بھی امریکی اڈہ محفوظ نہیں رہے گا۔