عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی: ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان

تہران/لندن (رم نیوز)ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس (IRGC) نے تزویراتی طور پر اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس وقت کسی بھی تجارتی یا مال بردار جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

برطانوی میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، آبنائے ہرمز دنیا کی وہ کلیدی شہ رگ ہے جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ (20 فیصد) گزرتا ہے۔ صرف 40 کلومیٹر چوڑی یہ گزرگاہ خلیجی ممالک کے لیے عالمی منڈی تک رسائی کا واحد راستہ ہے۔ اس بندش سے خلیج فارس کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک براہِ راست متاثر ہوں گے، جن میں درج ذیل شامل ہیں, سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات،کویت اور ایران۔

قطر، دنیا میں مائع قدرتی گیس (LNG) برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک اپنی تمام تر ترسیل کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے۔ اوپیک کے رکن ممالک اپنے خام تیل کی سب سے زیادہ برآمدات ایشیائی ممالک کو کرتے ہیں، جن کا راستہ یہی آبنائے ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بندش سے نہ صرف توانائی کا عالمی بحران پیدا ہو سکتا ہے بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی سطح پر بلند ترین سطح تک جا سکتی ہیں۔