تہران/لندن (رم نیوز)برطانوی اخبار 'فنانشل ٹائمز' نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے برسوں پہلے تہران کے ٹریفک کیمروں کا نیٹ ورک ہیک کر لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ان کیمروں کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا تل ابیب اور جنوبی اسرائیل میں نصب سرورز کو منتقل کیا جاتا رہا، جس کی مدد سے ایرانی قیادت اور سکیورٹی حکام کی نقل و حرکت کا مکمل 'پیٹرن آف لائف' تیار کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی یونٹ 8200 اور موساد نے پیچیدہ الگورتھمز کے ذریعے سکیورٹی گارڈز کے ڈیوٹی اوقات، سفر کے راستوں اور رہائش گاہوں کا ڈیٹا جمع کیا۔ اس مہم کے دوران موبائل ٹاورز میں خلل ڈال کر حفاظتی عملے کو وارننگ سے محروم رکھا گیا۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ تہران کی گلیوں سے اتنے ہی واقف تھے جتنے یروشلم سے۔ ماہرین کے مطابق، گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ میں 'سپارو' میزائلوں اور سائبر حملوں کے ذریعے ایرانی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانا اسی طویل المدتی انٹیلی جنس مہم کا حصہ تھا۔