ایران کا مستقبل: کیا امریکی مداخلت ایک مربوط متبادل فراہم کر سکے گی یا ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا؟

تہران/واشنگٹن (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگ اور ایران کی عسکری صلاحیتوں پر امریکہ و اسرائیل کے کاری ضربوں کے بعد ماہرین نے ایران میں ممکنہ حکومت کی تبدیلی یعنی رجیم چینج کے سنگین نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد اسرائیل، امریکہ، ایران اور خلیج میں جنگ کی صورتحال ہے ۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور وہاں سے تیل بردار جہازوں کے حوالے سے حوصلہ افزا خبریں نہیں آرہی ہیں اور اس وجہ سے تیل کی عالمی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں خدشات جنم لے رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران رقبے میں عراق سے تین گنا بڑا اور 9 کروڑ سے زائد آبادی والا ملک ہے، جہاں حکومت کا خاتمہ شام اور عراق جیسی خونریز خانہ جنگی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایرانی عوام کی ایک بڑی تعداد موجودہ نظام کی تبدیلی پر خوشی کا اظہار کرے گی، تاہم زبردستی ہٹائی گئی حکومت کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنا اور ایک مربوط و پرامن متبادل نظام قائم کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں انتشار پھیلا تو وہاں ہونے والی خونریزی میں لاکھوں افراد کے مارے جانے کا خدشہ ہے، جو پورے خطے کے توازن کو مستقل طور پر بدل کر رکھ دے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، 2003 میں عراق سے صدام حسین کا خاتمہ ایک بڑے انسانی المیے اور برسوں پر محیط ایسی جنگ کا سبب بنا جس نے ہولناک انتہا پسند تحریکوں کو جنم دیا۔ اسی طرح لیبیا کی مثال بھی سامنے ہے، جہاں تیل کی دولت کے باوجود معمر قذافی کی ہلاکت کے 15 سال بعد بھی ریاست ٹوٹ پھوٹ اور بدترین غربت کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ مغربی ممالک جنہوں نے لیبیا میں جشن منایا تھا، آج وہاں کی المناک صورتحال کی ذمہ داری لینے سے انکاری ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زبردستی کی تبدیلی اکثر "ناکام ریاستوں" کو جنم دیتی ہے۔تاہم ابھی جنگ جاری ہے نتیجہ کیا نکلتا ہے اس کے بارے میں آنے والا وقت ہی بتائے گا۔