پاسدارانِ انقلاب کا مستقبل خطرے میں؟ اعلیٰ عسکری قیادت کے خاتمے کے بعد ایران میں فیصلوں کا نیا مرکز کون؟

تہران (رم نیوز) امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں دہائیوں پر محیط سیاسی ڈھانچہ بڑے خلا کا شکار ہو گیا ہے۔ ایران کے لیے سب سے بڑا دھچکا اس کی عسکری قیادت کا خاتمہ بھی ہے، جس میں مسلح افواج کے چیف آف سٹاف اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بھی شامل ہیفی الوقت ایران کے تمام اہم انتظامی اور عسکری فیصلے تین ارکان پر مشتمل کونسل کر رہی ہے، جس میں صدر مسعود پزشکیان (انتظامی سربراہ)،غلام حسین محسن ایژہ ای (عدلیہ کے سربراہ)،علی رضا اعرافی (سینیئر مذہبی رہنما) شامل ہیں۔

رہبرِ اعلیٰ نے کسی باضابطہ جانشین کا اعلان نہیں کیا تھا، اس لیے ملک کو فوری طور پر چلانے کے لیے ایک عبوری 'قیادت کونسل' تشکیل دے دی گئی ہے جو ملک کے فیصلےکررہی ہے ۔ ایران کے مستقل رہنما کا انتخاب 88 مذہبی علما پر مشتمل ادارہ 'مجلسِ خبرگان' کرے گا۔ تاہم مسلسل جنگ کی صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے خدشات کی وجہ سے اس اسمبلی کا فوری اجلاس بلانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ جانشینی کی دوڑ میں علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، علی رضا اعرافی اور امام خمینی کے پوتے حسن خمینی کے نام نمایاں ہیں، لیکن سیاسی ماہرین کے مطابق کسی ایک شخص کے بجائے مستقل طور پر 'رہنماؤں کی کونسل' کا قیام بھی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو بغاوت پر اکسایا ہے، لیکن تہران میں فی الحال کسی بڑے احتجاج کے آثار نہیں ملے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی قیادت کے باوجود اصل طاقت پس پردہ پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہی رہے گی، جو معیشت اور سکیورٹی پر گہری گرفت رکھتے ہیں۔