ایرانی حکمتِ عملی کانتیجہ ، خلیجی ریاستوں کا امریکہ اور اسرائیل کے قریب آنے کا خدشہ

ریاض/دبئی (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی موجودہ عسکری حکمتِ عملی خود اس کے لیے الٹی ثابت ہو سکتی ہے۔اب تک سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے امریکہ کو اپنی سرزمین یا فضائی حدود ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے، تاہم یہ صورتحال مستقل نہیں ہے۔ ایران کی جانب سے مول لیا گیا یہ خطرہ خلیجی ریاستوں کو واشنگٹن کے مزید قریب دھکیل سکتا ہے اور وہ مستقبل میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد کا حصہ بن سکتی ہیں۔

اگر جنگ اور حملوں کا سلسلہ طول پکڑتا ہے، تو خلیجی ریاستیں اپنے تحفظ کے لیے ایران مخالف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست شریک ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ فی الحال خلیجی ممالک کی تمام تر توجہ اپنے داخلی دفاع اور شہریوں کے تحفظ پر مرکوز ہے۔اسرائیل سے متعلق عرب ممالک کے تحفظات ایران سے لاحق خطرات کے باوجود خلیجی ریاستیں اسرائیل کا ساتھ دینے کے تاثر سے گریزاں ہیں۔

غزہ میں اسرائیل کی تباہ کن کارروائیوں اور لبنان و شام میں فوجی مداخلت نے عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو مزید تلخ کر دیا ہے۔ گزشتہ سال قطر میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی کوشش نے عرب ریاستوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا تھا۔ ایران کے حالیہ جوابی حملوں نے خلیجی ممالک کو متحد کر دیا ہے۔ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور عمان نے ہنگامی اجلاس میں عہد کیا ہے کہ ہم اپنی سلامتی، سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے، جس میں جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا آپشن بھی شامل ہے۔

اماراتی صدر کے سینئر سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جنگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نہیں ہے۔ انہوں نے ایران کو مشورہ دیا کہ وہ ذمہ داری سے کام لے، ورنہ اسے عالمی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ ایران کا موقف ہے کہ وہ خلیجی ممالک کونشانہ نہیں بنارہا بلکہ اس کا ہدف امریکی اڈے ہیں لیکن مبصرین کے نزدیک ایران کے خلاف خلیجی ریاستوں کی حکمت عملی آنے والے دنوں میں واضح ہوجائے گی۔