کرد دنیا کی ان قدیم ترین اقوام میں شمار ہوتے ہیں جن کا مسکن ہزاروں سال سے بابل اور نینوا کے تاریخی میدان اور پہاڑی سلسلے رہے ہیں۔ ماہرین آثارِ قدیمہ اور مؤرخین کے مطابق، یہ لوگ اس خطے کے اصل اور قدیم ترین باشندے ہیں جو آج کے دور میں ترکی، شام، عراق اور ایران کے سرحدی علاقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کردوں کی سب سے بڑی آبادی ان چار ممالک کے متصل علاقوں میں رہتی ہے، جسے وہ 'کردستان' پکارتے ہیں۔ تاہم، ہر ملک میں ان کی سیاسی حیثیت مختلف ہے۔عراق میں کردوں کو 'کردستان ریجنل گورنمنٹ' کے تحت آئینی خود مختاری حاصل ہے، جسے صدام حسین کے بعد تسلیم کیا گیا۔
ایران کے شمال مغرب میں 'کردستان' نامی ایک صوبہ موجود ہے، جبکہ ایک بڑی تعداد شمال مشرقی علاقے خراسان میں بھی آباد ہے۔ شام کے شمال مشرقی اور ترکی کے جنوبی حصوں میں کردوں کی کثیر تعداد موجود ہے، جہاں وہ اپنی شناخت کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔کرد قوم کی تاریخ محض پہاڑوں اور میدانوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ جبر اور قربانیوں سے بھی عبارت ہے۔
1980 کی دہائی میں صدر صدام حسین کے دور میں کردوں کو بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے، جس سے ہزاروں بے گناہ شہری لقمہ اجل بنے۔ عالمی برادری نے اسے 'نسل کشی' قرار دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، 1946 میں جب کردوں نے اپنی ایک آزاد ریاست کے قیام کی کوشش کی، تو اس وقت کی ایرانی حکومت نے اس تحریک کو فوجی طاقت سے بے رحمی سے کچل دیا۔ آج کرد قوم مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک ناگزیر قوت بن چکی ہے۔ اپنی منفرد زبان اور ثقافت کو سینے سے لگائے یہ لوگ آج بھی اس امید کے ساتھ زندہ ہیں کہ ایک دن عالمی نقشے پر ان کی شناخت کو وہ مقام ملے گا جس کے وہ قدیم وارث ہیں۔