واشنگٹن(رم نیوز) امریکی محکمہ خزانہ نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے بھارتی ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کی 30 روزہ عارضی رعایت دے دی ہے۔ یہ اقدام ایران کی جانب سے عالمی توانائی مارکیٹ پر ڈالے جانے والے ممکنہ دباؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کے توانائی ایجنڈے کے نتیجے میں امریکہ میں تیل اور گیس کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، تاہم عالمی استحکام کے لیے یہ عبوری رعایت ضروری تھی۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ رعایت صرف اس تیل پر لاگو ہوگی جو پہلے ہی سمندر میں پھنسا ہوا ہے، تاکہ روسی حکومت کو اس سے کوئی نیا مالی فائدہ حاصل نہ ہو سکے۔ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ قدم ایران کی جانب سے عالمی توانائی کا بحران پیدا کرنے کی کوششوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکہ نے بھارت کو ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ نئی دہلی مستقبل میں امریکی تیل کی خریداری میں مزید اضافہ کرے گا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد عالمی منڈی میں تیل کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا اور قیمتوں میں اچانک اضافے کو روکنا ہے۔