اسلام آباد (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال کے ملکی معیشت پر اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت 55،55 روپے فی لٹر کے ہوش ربا اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ایران پر حملے نے عالمی سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے۔ محض ایک ہفتے میں امریکی خام تیل 35 فیصد اور برینٹ 28 فیصد تک مہنگا ہو چکا ہے۔ یکم مارچ کو پیٹرول 78 ڈالر پر تھا جو آج 106 ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ ڈیزل 88 ڈالر سے بڑھ کر 150 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ ملک میں تیل کے ذخائر تسلی بخش ہیں، تاہم مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف وزیراعظم نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔
چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی اور کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا گیا ہے تاکہ عوام کو پریشانی سے بچایا جا سکے۔ حکومت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب (آرامکو) اور دیگر دوست ممالک سے رابطہ کر لیا گیا ہے اور تیل کے بحری جہاز پاکستان کی جانب رواں دواں ہیں۔ اگلے دو روز میں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ مل کر مہنگائی کے اثرات کو کنٹرول کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔