مشرقِ وسطیٰ میں ہولناک جنگ کا آٹھواں روز، تہران دھماکوں سے لرز اٹھا، 1332 ایرانی شہید، تل ابیب پر میزائلوں کی برسات

تہران/واشنگٹن (رم نیوز) مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں تہران کا مہر آباد ایئرپورٹ اور آزادی ٹاور کے قریبی علاقے لرز اٹھے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک 1332 ایرانی شہری شہید ہو چکے ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فضائیہ نے تہران کے مغربی حصے پر شدید بمباری کی، جس سے دھوئیں کے بادل میلوں دور تک دیکھے گئے۔ شہدا میں 198 خواتین اور 8 طبی اہلکار بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بااثر ترین ساتھی اور چیف آف اسٹاف اصغر حجازی کو فضائی حملے میں شہید کر دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک ایران کے 43 جنگی جہاز اور 3 ہزار سے زائد اہداف کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ ایران نے پسپائی کے بجائے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 23ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب کو نشانہ بنایا جہاں متعدد دھماکے سنے گئے۔ ایرانی بحریہ نے امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کو ساحل سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے اردن میں نصب امریکی تھاڈ ڈیفنس سسٹم کے ریڈار کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔لبنان کی سرحد سے حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش کر دی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل اسموٹرچ کا بیٹا اور دیگر 8 فوجی شدید زخمی ہو گئے۔

جواب میں اسرائیل کی لبنان پر بمباری بھی جاری ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے 3 امن کار زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی بھی معاہدے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے بعد اگلا ہدف کیوبا ہوگا۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ٹرمپ کو چیلنج دیا ہے کہ اگر ہمت ہے تو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی بیڑے تعینات کر کے دکھائیں۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی امریکی یا اسرائیلی جہاز کو گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ جنگ کی لہر نے فضائی سفر کو بری طرح متاثر کیا ہے، پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ کی 97 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ عالمی منڈی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔