عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی: 'جنگ جاری رہی تو خلیجی ممالک سے تیل و گیس کی سپلائی ہفتوں میں بند ہو جائے گی'، قطر کا انتباہ

دوحہ (رم نیوز) قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر مسلط کردہ جنگ کا دائرہ کار مزید پھیلا تو خلیجی خطے سے توانائی کی برآمدات محض "چند ہفتوں" میں مکمل طور پر رک سکتی ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف عالمی توانائی کی مارکیٹیں درہم برہم ہو جائیں گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ ’فنانشل ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سعد الکعبی نے کہا کہ اگر یہ جنگ مزید چند ہفتوں تک کھینچی گئی تو دنیا بھر میں معاشی ترقی (GDP) کی شرح بری طرح متاثر ہوگی۔

پوری دنیا میں توانائی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی، جس کے نتیجے میں فیکٹریاں خام مال اور بجلی کی عدم فراہمی کے باعث بند ہو سکتی ہیں۔ قطر، جو عالمی مارکیٹ میں 20 فیصد ایل این جی فراہم کرتا ہے، اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ پیر کے روز سے قطر نے ایل این جی کی پیداوار روک دی ہے کیونکہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں قطر اور دیگر خلیجی ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز کی برسات کر دی ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق، اگر صورتحال نہ بدلی تو قطر سمیت تمام خلیجی برآمد کنندگان کو 'فورس میجر' (غیر معمولی حالات کے تحت قانونی ذمہ داریوں سے استثنیٰ) کا اعلان کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر جنگ آج بھی ختم ہو جائے تب بھی سپلائی لائن کو معمول پر لانے میں "ہفتوں سے مہینے" لگ سکتے ہیں۔ برسلز انسٹیٹیوٹ فار جیو پولیٹکس کے ماہر تھائس وان ڈی گراف کے مطابق، تزویراتی آبی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' میں بحری ٹریفک جنگ کی وجہ سے ڈرامائی حد تک گر چکی ہے۔ عراق نے پہلے ہی اپنے دو سے تین بڑے تیل کے کنویں بند کر دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کے کنویں کسی بجلی کے سوئچ کی طرح نہیں کہ فوراً آن یا آف کر دیے جائیں، ان کی بندش کے طویل مدتی اثرات ہوں گے۔جنگ تھمنے کے آثار نظر نہیں آ رہے، جہاں ایک طرف امریکی حکام ایران پر مزید "تباہی" کی دھمکیاں دے رہے ہیں، وہیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران خطے میں پائیدار امن کا خواہشمند ہے لیکن اپنی قومی وقار اور خودمختاری کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔