تہران/واشنگٹن (رم نیوز) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع کیے گئے مشترکہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اہم قیادت کی ہلاکت کے باوجود، ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ایرانی نظام کے خاتمے کے امکانات فی الحال کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ایران کا وہ پیچیدہ سیاسی و مذہبی ڈھانچہ ہے جو کسی ایک فرد کے بجائے 'انقلابِ اسلامی' کے نظریے پر استوار ہے۔
ماہرینِ تزویرات کے مطابق، لیبیا یا عراق کے برعکس جہاں حکومتیں قذافی یا صدام حسین کی ذات کے گرد گھومتی تھیں، ایران کا نظام 'ولایتِ فقیہ' کے اصول پر قائم ہے۔ ایرانی قیادت اس جنگ کو 'کربلا' کے تناظر میں دیکھتی ہے، جہاں موت کو شکست نہیں بلکہ 'شہادت' اور اخلاقی فتح سمجھا جاتا ہے۔ میناب جیسے علاقوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں نے ان ایرانیوں کو بھی نظام کے حق میں کھڑا کر دیا ہے جو عام حالات میں حکومت کے شدید ناقد تھے۔ ایرانی آئین کا آرٹیکل 111 رہبرِ اعلیٰ کی وفات کی صورت میں اقتدار کی منتقلی کا خودکار نظام فراہم کرتا ہے، جس کے تحت فی الحال ایک تین رکنی کونسل ملک کے امور چلا رہی ہے۔
اس کونسل میں صدر مسعود پزشکیان، چیف جسٹس اور گارڈین کونسل کے نمائندے شامل ہیں۔پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور بسیج ملیشیا جیسے منظم ادارے اب بھی سڑکوں پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کسی عوامی بغاوت کو کچلنا ان کے لیے آسان ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام کو 'آزادی' کی نوید سنائی ہے، مگر زمینی حقائق مختلف ہیں ۔ امریکہ اور اسرائیل کے پاس فضائی اور بحری برتری تو ہے، لیکن 90 ملین کی آبادی والے ملک پر کنٹرول کے لیے مطلوبہ 'انفنٹری' (زمینی فوج) موجود نہیں ہے۔
جلاوطن رضا پہلوی مغربی میڈیا میں تو نمایاں ہیں، لیکن ایران کے اندر ان کی مقبولیت اور تنظیمی قوت اب بھی مشکوک ہے۔ اگر امریکہ کردوں جیسے اقلیتی گروہوں کو مسلح کرتا ہے، تو یہ ایران کو اندرونی خلفشار کا شکار تو کر سکتا ہے لیکن ایک مستحکم متبادل حکومت نہیں دے سکتا۔ ماہرین کے نزدیک ایران اس جنگ کو طویل کر کے امریکہ کو تھکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے ڈرونز کو گرانے کے لیے امریکہ کو کروڑوں ڈالر کے 'تھاڈ' (THAAD) اور 'پیٹریاٹ' میزائل استعمال کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے امریکی دفاعی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔