ایران اسرائیل جنگ: تہران کا 220 امریکی فوجی مارنے اور قیدی بنانے کا دعویٰ، اسرائیل کا فضائی حدود پر کنٹرول کا اعلان

تہران/تل ابیب (رم نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف تباہ کن کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے مطابق الظفرہ ایئربیس اور یو ایس ففتھ فلیٹ پر حملوں میں 220 سے زائد امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے، جبکہ متعدد کو قیدی بنا لیا گیا ہے۔ تاہم، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان دعووں کو "جھوٹ" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی فضائی حدود پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب تک ایران کے 80 لڑاکا طیارے تباہ کیے جا چکے ہیں۔ایران نے تل ابیب میں سٹریٹجک اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا اور خلیج فارس میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم قبضے میں لینے کے لیے سپیشل فورسز بھیجنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔

چین نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کو پھیلنے سے روکا جائے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ دوسری جانب ہلالِ احمر کے مطابق جنگ سے اب تک ایران میں ہزاروں رہائشی عمارتیں، سکول اور ہسپتال متاثر ہو چکے ہیں۔