امریکہ کی 'منظوری' کے بغیر نیا رہبر: ایران نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنا کر واشنگٹن کو واضح پیغام دے دیا

تہران/واشنگٹن(رم نیوز)ایران کی مجلسِ خبرگان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ اور حالیہ فضائی حملوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر (رہبرِ اعلیٰ) منتخب کر لیا ہے۔ تہران کے اس فیصلے کو واشنگٹن کے لیے ایک بڑے سفارتی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے امریکہ کی "منظوری" ضروری ہوگی اور اگر ایسا نہ ہوا تو نئی قیادت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔

ایران نے امریکی مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا داخلی معاملہ ہے اور اس میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر مہرِ تصدیق ثبت کر کے ثابت کر دیا ہے کہ ایران دباؤ میں آ کر اپنی قیادت تبدیل نہیں کرے گا۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب امریکہ کے لیے اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ وہ ایک کٹر "ہارڈ لائنر" یعنی سخت گیر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ دیرینہ اور گہرے مراسم ہیں، جو خطے میں امریکی مفادات کے لیے ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کی سفارتی نرمی یا ایٹمی معاہدے کی بحالی کے امکانات تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔یہ تقرری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کی تیل کی تنصیبات پر حملے جاری ہیں۔ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران ان حملوں کا جواب زیادہ جارحانہ انداز میں دے سکتا ہے، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ مزید بھڑکنے کا خطرہ ہے۔

امریکی ذرائع کے مطابق، وائٹ ہاؤس اس انتخاب کے بعد ایران پر مزید معاشی پابندیاں عائد کرنے اور نئی قیادت کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی حکمتِ عملی پر غور کر رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کی نئی قیادت کے ہر قدم کو بغور دیکھ رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر براہِ راست کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر ہیں کہ امریکہ اس انتخاب پر کیا عملی قدم اٹھاتا ہے۔