اسلام آباد (رم نیوز) عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سٹاک مارکیٹ کی بے یقینی نے وفاقی حکومت کو ہنگامی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ اور وزیرِ اعظم نے ملکی تاریخ کے بڑے 'کفایت شعاری پیکیج' کا اعلان کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بارود کی بو اب پاکستانی معیشت کے رگ و پے میں سرایت کرنے لگی ہے۔ ایک طرف آسمان سے برستی آگ نے عالمی سپلائی لائن کو مفلوج کیا تو دوسری جانب پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کے ہوشربا اضافے نے زندگی کا پہیہ سست کر دیا ہے۔
حکومت وقت نے ان غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے 'بچاؤ مہم' کا اعلان کرتے ہوئے پورے ملک کو ایک نئی طرزِ زندگی میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے معاشی ایمرجنسی کے تحت حکومتی مشینری کو لگام ڈالنے کے لیے بڑے اقدامات کیے ہیں۔
سرکار کی گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کٹوتی۔
وفاقی وزراء اور مشیر دو ماہ تک تنخواہ نہیں لیں گے، جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی ہوگی۔
غیر ملکی دوروں اور افسر شاہی کے پُرتعیش اخراجات، نئے فرنیچر اور ایئر کنڈیشنرز کی خریداری پر مکمل پابندی۔ سب سے زیادہ بحث تعلیمی اداروں کی بندش پر ہو رہی ہے۔
پنجاب میں مریم نواز اور بلوچستان حکومت نے ایندھن کی بچت اور نقل و حمل کے مسائل کے پیشِ نظر 31 مارچ تک تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔ اگرچہ کلاسز کو 'آن لائن موڈ' پر منتقل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن عوام اور پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشنز نالاں ہیں کہ "تعلیم ہی کو ہمیشہ قربانی کا بکرا کیوں بنایا جاتا ہے؟۔
تیل بچانے کے لیے ہفتے میں صرف 4 دن کام کا اصول اپنایا گیا ہے، جبکہ 50 فیصد عملہ گھر سے کام (Work from Home) کرے گا۔ سرکاری میٹنگز کو ہوٹلوں سے نکال کر آن لائن ٹیلی کانفرنسنگ تک محدود کر دیا گیا ہے تاکہ ایک ایک قطرہ بچایا جا سکے۔
ان تاریک بادلوں میں ایک روشن پہلو 5 جی (5G) سپیکٹرم کی نیلامی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسے آئی ٹی کے شعبے کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جسمانی نقل و حمل کے بجائے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ایندھن کے بحران سے نمٹنے کے لیے ملک ’آن لائن‘ کام کرنے کے قابل ہو۔
پاکستان اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی خبریں، ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے اور سٹاک مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ والی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم ایک غیر یقینی دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت کے کفایت شعاری اقدامات اگرچہ عارضی طور پر کچھ ریلیف دے سکتے ہیں، لیکن مستقل حل کے لیے ہمیں اپنی توانائی کی ضروریات اور تعلیمی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔قابل غور بات یہ ہے کہ کیا یہ ’شٹ ڈاؤن‘ ہمیں ایک بڑے معاشی حادثے سے بچا پائے گا؟ اس کا جواب آنے والے چند ہفتوں کی عالمی صورتحال اور حکومتی فیصلوں پر عوامی عملدرآمد میں چھپا ہے۔