ماسکو/واشنگٹن (رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے جلد خاتمے اور فوجی برتری کے دعووں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی توانائی کے بحران میں کمی اور مہنگائی کے ستائے ممالک کے لیے ریلیف کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ گزشتہ روز 119 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد برطانوی خام تیل کی قیمت 8 فیصد کمی کے ساتھ 90 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ دوران ٹریڈنگ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 89 ڈالر سے گر کر 87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر دیکھی گئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ تقریباً جیت چکا ہے اور یہ تنازع بہت جلد ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی ٹائم لائن سے بہت آگے ہیں اور ایرانی ڈرون مینوفیکچرنگ کو نشانہ بنا کر ان کی دفاعی صلاحیت کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ صدر کے اس بیان نے سرمایہ کاروں کے اس خوف کو کم کر دیا ہے کہ سپلائی لائن طویل عرصے تک متاثر رہے گی۔
پاکستان، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ 55 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، وہاں عالمی منڈی میں قیمتوں کی اس گراوٹ سے عوام کو بڑی سہولت ملنے کی توقع ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں 90 ڈالر سے نیچے برقرار رہتی ہیں، تو حکومتِ پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور حال ہی میں نافذ کردہ سخت کفایت شعاری اقدامات پر نظرِ ثانی کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔