تہران میں قیادت کی تبدیلی اور امریکی حملے، ٹرمپ کے ’اینڈ گیم‘ پر سوالات اٹھنے لگے

تہران/واشنگٹن (رم نیوز)تہران میں قیادت کی تبدیلی کے ساتھ امریکی حملے جاری ہیں لیکن امریکی صدر ٹرمپ کے ’اینڈ گیم‘ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں اب تک ایران کے 2,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم، تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت اور اہم تنصیبات کی تباہی کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمتِ عملی اور جنگ کے حتمی مقصد پر ابہام برقرار ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیانات مسلسل تضاد کا شکار ہیں۔ کبھی وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے پر معافی کی پیشکش کرتے ہیں اور کبھی ایرانی سفارت کاروں کو وفاداریاں تبدیل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا اصل مقصد "رجیم چینج" یعنی ایرانی نظام کا خاتمہ ہے، لیکن زمینی حقائق برعکس ہیں۔ امریکی توقعات کے برعکس، آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران میں کوئی بڑی عوامی بغاوت یا نظام کا خاتمہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اتوار کے روز ایران نے آیت اللہ خامنہ ای کے 56 سالہ بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کر کے واضح کر دیا ہے کہ ایرانی ریاست کا ڈھانچہ تاحال مضبوط ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے بھی نئی قیادت کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھاتے ہوئے جوابی حملوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ اس جنگ نے اب تک بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع کیا ہے۔ تہران کے مطابق اب تک 1,255 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک سکول پر بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 160 بچے بھی شامل ہیں۔ جنگ کے دوران اب تک 7 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات، تیل کی ریفائنریز اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر ین مبصرین کے مطابق ٹرمپ کو گمان تھا کہ قیادت کے خاتمے سے نظام گر جائے گا، لیکن ایران کی مزاحمتی صلاحیت کو سمجھنے میں غلطی کی گئی۔ اس وجہ سے یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ امریکہ اس جنگ کا خاتمہ کہاں پر کرے گا کیونکہ امریکی صدر نے جنگ تو شروع کردی، لیکن خاتمہ کیسے اور کب ہوگا اس بارے میں سوالات اٹھ رہےہیں اور ان کا جواب کسی کے پاس نہیں ہےتاہم فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔