تل ابیب/تہران (رم نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے سب سے اہم 'بن گوریان انٹرنیشنل ایئرپورٹ' پر میزائلوں کی بارش کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، اسرائیل کا دفاعی نظام ان جدید میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر متعدد دھماکے ہوئے اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حملے کی تفصیلات اور نقصانات ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے قدر، عماد، اور خیبر شکن جیسے بیلسٹک میزائلوں اور تباہ کن ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے وقت تل ابیب سائرن کی آوازوں سے گونج اٹھا اور کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ دوسری جانب لبنان سے کیے گئے ایک حملے میں اسرائیلی فوج کا کمیونیکیشن سسٹم بھی تباہ ہو گیا ہے۔ علاقائی امریکی اڈوں پر حملے ایران کی جانب سے یہ کارروائی صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہی بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے: عراق: بغداد میں واقع 'وکٹوریہ ایئربیس' پر ڈرون اور میزائل داغے گئے۔
امارتی اور سعودی وزارتِ دفاع نے ڈرونز اور میزائلوں کی ایک لہر کا مقابلہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق 'پرنس سلطان ایئربیس' کی طرف داغے گئے 6 بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے۔ اسرائیل کا ردِعمل اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیدیون سا نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل، ایران کے ساتھ 'لامحدود جنگ' کا خواہاں نہیں ہے، تاہم یہ جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب اسرائیل اور امریکہ مناسب سمجھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل کا کوئی بھی فیصلہ واشنگٹن کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔