ایران میں نئے دور کا آغاز: آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سامنے اندرونی خلفشار اور عالمی جنگ کے سنگین چیلنجز

ایران کے طاقتور ترین عہدے ’سپریم لیڈر‘ پر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کو ملک کی تاریخ کا اہم ترین موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے والد، آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد منصب سنبھالنے والے مجتبیٰ خامنہ ای ایک ایسے وقت میں اقتدار میں آئے ہیں جب ایران بیک وقت بیرونی جنگ، داخلی احتجاج اور معاشی بدحالی کی زد میں ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کے دور میں بھی پس پردہ ایک انتہائی بااثر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ ان کے ایران کے طاقتور ترین عسکری ادارے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور سرکاری بیوروکریسی کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا ’سخت گیر‘ اور ’نظریاتی‘ تشخص انہیں نظام کے اندر غیر معمولی حمایت فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے ریاستی ڈھانچے کے اہم ستون ان کے پیچھے متحد کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

1. جنگی صورتحال اور دفاعی بحران: ایران اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک براہِ راست اور شدید فوجی تنازع میں الجھا ہوا ہے۔حالیہ ہفتوں میں ایرانی تنصیبات پر ہونے والے حملوں اور کرمان میں ڈرون گرائے جانے جیسے واقعات نے نئی قیادت کے لیے دفاعی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اس جنگ کو مزید پھیلا کر اپنے نظریاتی موقف پر قائم رہیں گے یا سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

2. معاشی تباہی اور عالمی پابندیاں: گزشتہ کئی برسوں سے ایران بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی ضرورتوں کی قلت سے تنگ آ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر نئی قیادت نے فوری طور پر معیشت کو سہارا دینے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو داخلی سطح پر عوامی غیظ و غضب کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔

3. سماجی تقسیم اور احتجاجی لہر: گزشتہ سال دسمبر میں ایران نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھے۔ اگرچہ ابتدا میں یہ مظاہرے معاشی تھے، لیکن جلد ہی یہ سیاسی مطالبات میں بدل گئے۔ تہران کے 'انقلاب اسکوائر' پر جہاں ایک طرف ان کے حامی جمع ہیں، وہیں معاشرے کا ایک بڑا طبقہ سیاسی اور سماجی آزادیوں کا تقاضا کر رہا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے سب سے بڑا امتحان اس عوامی تقسیم کو ختم کر کے ملک میں قومی یکجہتی پیدا کرنا ہوگا۔

مستقبل کی سمت: دو راستے عالمی تجزیہ کاروں اور رائٹرز کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت ایران کو دو میں سے کسی ایک راستے پر لے جا سکتی ہے

پہلا راستہ: سخت نظریاتی پالیسیوں کو مزید تقویت دینا، جس سے اسرائیل اور مغرب کے ساتھ تصادم بڑھے گا۔ دوسرا راستہ: اپنے والد کے وارث ہونے کے ناطے حاصل ہونے والے سیاسی جواز کو استعمال کرتے ہوئے نظام میں ایسی اصلاحات لانا جو ایران کو عالمی تنہائی سے نکال سکیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی سخت گیر طبیعت کے لیے مشہور ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای کے عروج کو "بدترین منظرنامہ" قرار دے چکے ہیں۔ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ علی خامنہ ای کا بیٹا انہیں کسی صورت قبول نہیں اور وہ "زیادہ دیر نہیں چلیں گے۔

دوسری جانب، اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مجتبیٰ خامنہ ای کو "ایک غیر مبہم ہدف" قرار دیتے ہوئے انہیں براہِ راست اسرائیل کے نشانے پر ہونے کا اشارہ دے دیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت اب بھی ایک راز بنی ہوئی ہے۔ ان کی کوئی عوامی تقریر ریکارڈ پر نہیں، نہ ہی انہوں نے کبھی کوئی باضابطہ حکومتی عہدہ سنبھالا ہے۔ وہ عوامی جگہوں یا تصاویر میں اپنے والد کے ساتھ نظر نہیں آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب بھی "پردے کے پیچھے" رہ کر نظام کو چلانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

سیاسی محاذ پر مجتبیٰ خامنہ ای کو دو انتہائی تجربہ کار اور عسکری پس منظر رکھنے والی شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔

علی لاریجانی: سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ، جو تزویراتی فیصلوں میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ محمد باقر قالیباف: سپیکرِ پارلیمنٹ اور سابق فوجی افسر۔ یہ دونوں شخصیات پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور نئے سپریم لیڈر کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، حالیہ مہینوں میں ایران نے ایک طرف قطر کی ثالثی کے ذریعے ٹرمپ کے نمائندوں سے مذاکرات کی کوشش کی، تو دوسری طرف دشمن کی فوجی و انٹیلی جنس طاقت کے خلاف مکمل تصادم کی تیاری بھی مکمل کر لی ہے۔ ایران اس وقت ایک ایسی بڑھتی ہوئی جنگ کے شکنجے میں ہے جس نے نہ صرف ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات تباہ کر دیے ہیں بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید جھٹکے دیے ہیں۔