تہران (رم نیوز)ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر حکومتی سطح سے اہم وضاحت سامنے آئی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کے صاحبزادے اور حکومتی مشیر یوسف پزشکیان نے ان تمام افواہوں کی تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنگ کے دوران سپریم لیڈر کو نقصان پہنچا ہے۔ یوسف پزشکیان نے انسٹاگرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی حلقوں سے رابطہ کیا ہے اور وہ مکمل طور پر محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
انہوں نے کہا وہ بالکل صحیح سلامت ہیں۔ واضح رہے کہ یہ قیاس آرائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے مجتبیٰ خامنہ ای کو 'رمضان کی جنگ کا زخمی غازی' (Wounded veteran of the Ramadan war) قرار دے کر پکارا۔ تاہم سرکاری میڈیا نے ان کے زخمی ہونے کی نوعیت یا وقت کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے یہ تشویش ایک ایسے وقت میں ظاہر کی گئی جب ایران شدید جنگی شکنجے میں ہے اور اسرائیلی وزیر دفاع انہیں 'غیر مبہم ہدف' قرار دے چکے ہیں۔ اپنی پراسرار شخصیت اور منظرِ عام سے دوری کی وجہ سے نئے سپریم لیڈر کے بارے میں متضاد خبریں اکثر گردش کرتی رہتی ہیں، تاہم تازہ ترین بیان کا مقصد ان کے حامیوں اور ریاستی اداروں میں پائی جانے والی بے چینی کو ختم کرنا ہے۔