مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے: ایران نے امن کی بحالی کے لیے 3 کڑی شرائط پیش کر دیں

بغداد/تہران (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہورہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ایران نے امن کی بحالی کے لیے 3 کڑی شرائط پیش کر دی ہیں۔ عراق کی بندرگاہ 'الفاؤ' میں دو غیر ملکی تیل بردار جہازوں پر حالیہ حملوں نے خطے کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے۔

ان حملوں کے بعد جہاں خلیجی ممالک نے اپنے دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، وہیں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے تین بنیادی شرائط سامنے رکھی ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی برادری ایران کے تمام 'جائز حقوق' کو تسلیم کرے۔ اب تک ہونے والے تمام جنگی نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مضبوط اور تحریری عالمی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔ 'الجزیرہ' کے مطابق سعودی عرب، امارات، کویت اور قطر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی کامیابی سے ناکارہ بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

واضح رہے کہ جاری کشیدگی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایران نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی اور سفارتی حل نہ نکالا گیا تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا بحران ثابت ہوگا۔