نیویارک(رم نیوز)اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر سپر پاورز کے درمیان اکھاڑا بن گئی، جہاں امریکہ نے روس کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کر کے مسترد کر دیا۔ اس سفارتی ٹکراؤ نے عالمی برادری میں موجود گہری تقسیم کو واضح کر دیا ہے۔منظور شدہ متن میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر حملے فوری طور پر بند کرے کیونکہ یہ اقدامات بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
روس کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران پر حملے فوری بند کیے جائیں اور خطے میں جنگ بندی عمل میں لائی جائے۔قرارداد کے حق میں محض 4 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 2 نے مخالفت کی۔ ووٹنگ کے حساس مرحلے پر 9 ارکان غیر حاضر رہے۔ روسی مندوب نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے خطے میں حالیہ اشتعال انگیزی کی اصل وجہ ہیں، جنہیں عالمی قوانین کے تحت فوری رکنا چاہیے۔
دوسری جانب، سلامتی کونسل نے خلیجی ریاستوں کی جانب سے پیش کی گئی ایک الگ قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی۔ اس قرارداد میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان سمیت 13 ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ چین اور روس نے اس عمل میں شرکت نہیں کی۔