لندن/سنگاپور(رم نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بادل گہرے ہوتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو ایک بار پھر پر لگ گئے ہیں۔ جمعرات کے روز ایشیائی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایشیائی مارکیٹ میں قیمتیں 9 فیصد اضافے کے بعد 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں۔
امریکی منڈی میں بھی خام تیل کی قیمت 9 فیصد اضافے کے ساتھ 95.27 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں حالیہ ہوش ربا اضافے کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگی تصادم کے باعث سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایران کی جانب سے دنیا کے اہم ترین تجارتی راستے "آبنائے ہرمز" کو بند کرنے کی دھمکیوں نے عالمی منڈی میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کی جانب سے تیل کے ہنگامی ذخائر مارکیٹ میں لانے کے باوجود قیمتوں میں کمی واقع نہیں ہو سکی۔ رواں ہفتے کے آغاز میں تیل کی قیمتیں 110 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو آئی تھیں، جس کے بعد سے قیمتوں میں مسلسل شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اس غیر یقینی صورتحال نے عالمی سطح پر مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔