کراچی(رم نیوز) شہرِ قائد کے ایک علاقے میں دکان کے باہر رکھے گئے 'بعل' نامی مجسمے کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو نے جہاں شہریوں میں کھلبلی مچا دی تھی، وہیں پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اس کی اصل حقیقت بتا دی ہے۔ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد عوامی تشویش کو دیکھتے ہوئے پولیس نے مجسمہ قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کیں، جس کے دوران درج ذیل حقائق سامنے آئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ یہ مجسمہ تھرمو پول سے تیار کیا گیا تھا اور اسے عمران نامی ایک مقامی مجسمہ ساز نے بنایا تھا۔ مجسمہ ساز کے مطابق اسے یہ کام مذہبی سکالر کی جانب سے دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مذہبی سکالر نے اپنے وضاحتی بیان میں بتایا ہے کہ اس مجسمے کو بنانے کا مقصد یومِ القدس کے موقع پر ایک منفرد احتجاج ریکارڈ کروانا تھا۔
تاہم، احتجاج سے قبل ہی مجسمے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس نے عوامی توجہ اور پولیس کی مداخلت کو جنم دیا۔ پولیس کا موقف پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ مجسمہ ساز اور متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں اور یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ محض ایک سیاسی و مذہبی احتجاج کی تیاری کا حصہ تھا۔