واشنگٹن(رم نیوز)امریکی سینیٹر کرس مرفی نے ایران کے ساتھ جاری حالیہ جنگ کو ٹرمپ انتظامیہ کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکام کے پاس نہ تو کوئی واضح ہدف ہے اور نہ ہی اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ انہوں نے کانگریس کی خفیہ بریفنگ کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے جنگی منصوبے نامکمل ہیں۔ سینیٹر مرفی کے مطابق، دو گھنٹے طویل خفیہ میٹنگ میں انتظامیہ عوامی سطح پر کیے گئے اپنے ہی دعوئوں کا دفاع کرنے میں ناکام رہی۔
صدر ٹرمپ کے دعووں کے برعکس، حکام نے اعتراف کیا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا نہیں۔ واشنگٹن کی آفیشل پالیسی میں تہران میں 'رجیم چینج' شامل نہیں ہے، یعنی جنگ کے بعد بھی امریکہ مخالف سخت گیر حکومت اقتدار میں رہے گی۔ سینیٹر مرفی نے انتظامیہ کے جواب نہ دینے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ بمباری رکنے کے بعد اگر ایران نے دوبارہ ہتھیار بنانا شروع کر دیے تو کیا ہوگا؟ تو حکام کے پاس مزید بمباری کے علاوہ کوئی جواب نہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمتِ عملی امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہی ہے جس کا کوئی منطقی انجام نہیں۔ امریکہ کے پاس دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی کے حامل اس راستے کو بحفاظت کھولنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ مرفی نے کہا کہ ایران کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کا اندازہ پہلے ہی تھا، مگر اس کے باوجود انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔سینیٹر کرس مرفی نے خبردار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی عوام کے اربوں ڈالر اور قیمتی جانیں ایک ایسے مقصد کے لیے ضائع کر رہی ہے جس کی منزل خود اسے معلوم نہیں۔